اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں شدت پسند گروہ داعش کے خلاف برسرپیکار امریکی اتحاد اپنی مہم میں شدت لا رہا ہے۔
محکمۂ دفاع کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ امریکہ شام میں اضافی فوج روانہ نہیں کرے گا لیکن وہاں کی اعتدال پسند حزب اختلاف کو دینے جانے والے اپنے تعاون میں اضافہ کرے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ داعش کو شکست دینے کے لیے امریکہ کو زمین پر ایک موثر شریکِ کار کی ضرورت ہے۔
امریکہ کا یہ فیصلہ داعش کے جنگجوؤں کی کرد فوج کے خلاف کامیابی کے نتیجے میں آیا ہے جس میں انھوں نے عین عیسی کا قصبہ کردوں سے دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
اوباما کے بیان کے بعد داعش کے خلاف اتحادی افواج نے شدید بمباری بھی کی جو گذشتہ سال ستمبر میں اس شدت پسند تنظیم کے خلاف اتحادی فوج کی عسکری کارروائی کے آغاز کے بعد سے ہونے والی شدید ترین بمباریوں میں سے ایک ہے۔
بمباری میں داعش کے اصلی دارالحکومت رقہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اوبامہ نے داعش کے خلاف حملوں میں شدت کی بات پینٹاگون میں کہی
اوباما نے کہا: ’ہم لوگ داعش کے خلاف اپنی کوششوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
مزید کہا: ’ہمارے فضائی حملے تیل اور گیس کے ان مراکز کو نشانہ بناتے رہیں گے جو ان کی مہم کو بہت زیادہ مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔‘
اوبامہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ’جب ہمارے پاس زمین پر موثر شریک کار ہوگا تو ہم داعش کو پیچھے ہٹا سکتے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ داعش کے خلاف مہم ’بہت جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔‘
۔۔۔۔۔۔۔
/169